تحریر: علی رضااحمدانی عنوان : کشکمش

ہیڈنگ: قاتل کون ۔۔۔۔۔۔!!!!!!!
حدیث نبوی ﷺ : مزدور کی مزدوری اسکا پسینہ خوش ہونے سے پہلے ادا کرو ،(ابن ماجا)
محنت سے روزی کمانے والا اللہ تعالی کا دوست ہے ، یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ اپنے علاقے میں محنت کر کے روزی کمانے کی بجائے کس وجہ سے دھڑا دھڑبلوچستان جا کر روزی کمانے کو ترجیح دینے کے چکرمیں سرائیکی بیلٹ سمیت پنجاب کے لوگ بلوچستان میں اندھی گولیوں کی نظرکیوں ہو رہے ہیں ، آج سے چند سال قبل ایک واقعہ تربت میں رونما ہوا تھا جس میں سرائیکی بیلٹ سے تعلق رکھنے والے 10افراد کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا تھا ، شہید ہونے والوں میں سے تین افراد کا تعلق ضلع ڈیرہ غازی خان کی نواحی بستی معموری سے تعلق تھا ،کھوسہ برداری کے دو نوجوان اور ایک کمسن بچہ بھی اِسی دہشت گردی کے واقعہ میں جا ن کی بازی ہار گئے تھے، ورثا ء کے مطابق شہید ہونے والوں انکے پیاروں کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد شہید کر دیا گیا تھا ، اس انسانیت سوز واقعہ کے زخم ابھی بھرے ہی نہیں تھے ، صبح سویرے ایک نجی نیوز چینل کے اینکر کا شف رضا کہہ رہے تھے کہ گزشتہ روز تربت میں 15 مزدوروں کو گولیاں مار کر شہید کر دیا گیا ، ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مزدور تربت سے براستہ ایران یورپ مزدوری کرنے کی غرض سے جا رہے تھے،دو دن بعد وہی الفاظ دوبارہ نجی نیوز چینل محمد علی سومرو دوہرا رہے تھے کہ تربت میں مزید پانچ بے گناہ مزدوروں کو نا معلوم افراد کی جانب سے شہید کر دیا گیا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگرمزدور اپنے ملک میں غربت اور بے روزگاری سے تنگ آ کر مزدوری کرنے کی غرض سے بیرون ملک جا رہے تھے تو حکومت وقت کے لیے ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ پاکستا ن میں غربت کی شرح میں اس قدر اضافہ ہو چکا ہے کہ مزدور اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگا کر بیرون ملک مزدوری کرنے کی غرض سے جانے پر مجبور ہیں ، حکومت وقت اگر ملک پاکستان میں روز گار کے مواقع فراہم کرئے تو یہ نوبت ہی نہ آئے کہ مزدور غربت اور بے روزگاری سے تنگ آکر غیر ممالک جانے پر مجبور ہوں ، سوال یہ پیداہوتا ہے کہ مزدوری کی غرض سے
بیرون ملک جانے والے شہید مزدوروں کا تعلق ،خیبرپختواہ، گلگت بلتستان ،بلوچستان ،سندھ سے کیوں نہیں ہوتا ہے ، ہمیشہ شہید ہونے والے مزدوروں کا تعلق پنجاب سے کیوں ہوتا ہے ؟ کیا پنجاب میں ہی صرف بے روز گاری ہے ؟ کیا پنجاب میں ہی غربت کی شرح میں بے پنا ہ اضافہ ہے ؟ انسانی فطرت کا تقاضا ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیشہ پنجاب کے لوگوں کو ہی ٹارگٹ کیوں بنایا جا رہا ہے ،
عینی شاہدین کے مطابق مارنے سے پہلے انکے شناختی کارڈ ز چیک کیے جاتے ہیں ،مزدور اگر پاکستانی قوانین کی پاسداری کئیے بغیر اگر ملکی سرحد عبور کر رہے تھے،سزا دینا ریاست کا کام تھا، نہ کہ نامعلوم افرادکا ، فیصلہ آپ خود کریں ،کہ کیا وجوہات تھی انکوبلا جواز شہید کر دیا گیا ، بے روز گاری کے خاتمے کے لیے حکومت وقت کو چایئے کہ ملک میں روزگار کے ذرائع پیدا کرئے ،بے روزگاری اس حد تک تجاوز کر گئی ہے کہ کہیں روڈ پر TMA کے ملازمین تنخواہوں کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو کہیں لیڈی ہیلتھ ورکرز 6 ماہ سے تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے گھر کا چوہا لے کرروڈز پر احتجاج کرتی ہوئی دیکھائی دیتی ہیں ، نوجوان نسل کو ملازمت دینے کی بجائے کہیں لیپ ٹاپ تھما دیئے جاتے ہیں اور کہیں انجینئر لیول کے شخص کو بارہ ہزار کے عوض کنڑیکٹ پر ملازم رکھ کے انجینئر کا کام لیا جاتا ہے ، گزشتہ روز ممتاز مذہبی سکالر سید ساجد علی نقوی سے ملاقات ہوئی انٹر ویو کے دوران انکا کہنا تھا کہ ملک پاکستان اس وقت کرپشن کا شکار ہے کرپشن کا خاتمہ اس وقت یقینی ہے جب عدل علی ؑ پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوا جائے گا ، جب ہر خاص و عام کے لیے انصاف مساوی ہو گا تو ملک میں خوشحالی آئے گی ، انصاف کے تقاضے پورے ہونے پر ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا ، اور ملک پاکستان میں روزگار کے مواقع پیدا ہو ں گے،

Comments