بالواسطہ نظام ٹیکس

اگر ہم بالواسطہ ٹیکس کی بات کریں تو اس حوالے سے پاکستان کا نظام ٹیکس کافی حد تک جابرانہ ہے جو غریب اور محکوم طبقات کی بجائے صرف امراء کو چاہتے یا ناچاہتے ہوئے فائدہ پہنچا رہا ہے۔بنیادی طور پر ہمارا نظام ٹیکس تقریباً 65 فیصد بالواسطہ وصولیوں پر منحصر ہے جو بغیر کسی روک ٹوک کے جاری ہیں، جس کی وجہ سے ایک عام آدمی کو 17 فیصد سیلز ٹیکس کا بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔اگر ہم حکومتی نقطہ نظر کی بات کریں تو بالواسطہ وصولیاں ان خامیوں پر قابو پانے کا ایک آلہ کار ہے، جن کی وجہ سے مرکزی نظام ٹیکس بدحالی کا شکار ہے۔وہ عوامل، جن کی وجہ سے مرکزی نظام ٹیکس بدحالی کا شکار ہے ان میں ٹیکس گزاروں کی طرف سے اپنے مالی معاملات کو جان بوجھ کر غلط بتانا، اپنے ذرائع آمد ن کو کم دکھانا یا مکمل طور پر چھپانا اور اخراجات و کٹوتیوں کو بڑھا کر پیش کرنا خاص طور پر شامل ہیں۔

Comments